متعلق


متعلق

دستاویز کیوں؟

کہانیا ں دنیا کو تبدیل کرسکتی ہیں مگردنیا کو بدل دینےوالی کئی کہانیاں اب تک ان کہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی کوئی پہچان نہیں، وجہ یہ کہ شرم اُن کے آڑے آتی ہےاور ایک بڑی وجہ خود کویہ باور کروالینا بھی ہےکہ ایسا ہونا توروز کا معمول ہے۔ یہ اُس تشدد کی کہانیاں ہیں جس کا سامنا ہر روز دنیا بھر کی بےشمار عورتوں اور بچیوں کو کرنا پڑتا ہے۔

تشدد انٹرنیٹ کی ذریعےآن لائن بھی ہورہا ہے۔ آن لائن ہراساں کرنا، سائبر گفتگو، رازداری کےقوانین کی خلاف ورزی، صنفی، جنسی شناخت اور سیاسی نظریات کی بنا پر لوگوں کےگروہی صورت میں آن لائن اپنی نفرت و تضحیک کا نشانہ بنانا۔۔۔ تشدد کی وہ اقسام ہیں جو دنیا بھر میں تیزی سےپھیل رہی ہیں۔ اس طرح کےمختلف واقعات کا سامنا کرنےوالےلوگوں کےتجربات اب تک ان کہی کہانیاں ہیں، جو دستاویزی شکل میں دنیا کے سامنےنہیں آسکی ہیں۔آن لائن ہونےوالا تشدد اس لیےبھی نظر نہیں آتا کہ ہم روایتی طور پر عورتوں کےخلاف ہونےوالےتشدد کو برداشت کرنے کےعادی ہیں۔ اس سے دانستہ طور پر صرفِ نظر کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے سمجھوتہ کرلیتے ہیں۔

دنیا کےمختلف حصوں میں خواتین کےخلاف ہونےوالےتشددکےمعاملے پر اکثر حکومتی سطح پر کیےگئےنگرانی کےاقدامات کے عمل درآمد میں غفلت اور لاپرواہی برتی جاتی ہے، جس کےباعث یہ صورتِ حال نہ صرف سنگین ہوتی جارہی ہے بلکہ اس کےپھیلاؤ میں بھی تیز رفتار اضافہ ہورہا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں خواتین کےخلاف ہونےوالےتشدد کےحوالے سے تھوڑی بہت آگاہی موجود ہے اور اس حوالے سے بعض اقدامات بھی کیےگئے ہیں لیکن یہ مسئلہ جتنا سنگین ہے، اس کے پیشِ نظرضروری ہے کہ اسےحقیقی تناظر میں پیش کیا، دیکھا اور سمجھا جائے۔ جب تک تشدد کےایسےواقعات کو دستاویزی شکل میں مرتب نہیں کیا جاتا، تب تک اسے اس کی حقیقی سنگینی کےاعتبار سےتسلیم بھی نہیں کیا جائےگا۔

تشدد کےان واقعات کو دستاویزی شکل دینےکی ضرورت کا مطلب یہ ہے کہ گواہ بننےکی ضرورت و اہمیت کو اُجاگر کیا جائے۔ یہ عمل نادیدہ کو دیدہ بنانا ہے۔ ٹیک بیک دی ٹیک! خواتین اور بچیوں پر زور دیتا ہےکہ وہ ٹیکنالوجی پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور ہمیں اپنی کہانیاں سنائیں۔ اپنےبیانات خود تخلیق کرکےدنیا کےسامنے لائیں اور پوری دنیا میں عورتوں اور بچیوں پر روا اس تشدد میں خود پر بیتی باتوں کو ایک شکل مہیا کر کےسب کےسامنے پیش کردیں۔

یہ دنیا سےمطالبہ ہےکہ وہ دیکھو جو تم دیکھنا نہیں چاہتے یا اگر دیکھتے ہوتو صرف جذبات اور خوف کی عینک لگا کر ۔ وہ دنیا، جس میں خواتین کےخلاف تشدد کو دوام مل رہا ہے، وہاں اس اقدام کا مقصد گواہوں کو سامنےلاکر ذمہ داروں کو احتساب کے دائرے میں لانا ہے۔
ہم اُن خواتین سےرابطہ کرنےپر زور دیتے ہیں، جن پر بیتی کہانیاں اب تک صرف اس لیے سامنےنہیں آسکی ہیں کہ وہ انہیں غیر اہم یاناموزوں سمجھتی ہیں یا پھر دنیا بھر میں عورتوں کےخلاف روا تشدد کےمنظر نامےمیں نہایت سادگی سے یہ سوچ کر کہنے سے رک جاتی ہیں کہ یہ تو اس لیے ہورہا ہے کہ ہم عورت ہیں۔ ہم ایسی خواتین پر زور دیتے ہوئے ان سے کہتے ہیں کہ تشدد کا سامنا کرنے والی ہر عورت کی کہانی اہمیت کی حامل ہے۔ اُن کی کہانی دنیا کے اُس عمل کا ایک حصہ ہے، جس میں ہم مل جُل کر کچھ تخلیق کرتے ہیں، بطور انسان اپنی نظرسےاطراف کی دنیا کودیکھتے ہیں۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان جو عمل کرتا ہے، جوبولتاہے، جوذمہ دار ہے، جومدد کرتا ہے، جو بےدخل کرتا ہے،جو تشکیل کرتا ہے۔

یہ حقوقِ نسواں کا علمبردار اقدام ہے، جس کا مقصد جاننےکی طرف قدم بڑھانا، اُن کی نمائندگی کرنا، اُن میں گواہی دینےکا حوصلہ پیدا کرنا اور اس کےساتھ مطالبہ کرتے ہوئے تبدیلی کی تشکیل کرنا شامل ہے۔

اس اقدام کےپیچھےکون ہے؟

یہ نقشہ سازی ٹیک بیک دی ٹیک! تحریک کا حصہ ہے۔ یہ دنیا کےمختلف حصوں میں عورتوں پر ہونےوالےتشدد کےخلاف تحریک چلانےوالوں کا ایک مشترکا اقدام ہے۔ جس کا مقصد آن لائن تشدد کا شکار خواتین ( اوربچیوں) کی آپ بیتیوں کو دستاویزی شکل میں مرتب کر کے، دنیا کےسامنےتشدد کی اس قسم کےخلاف ٹھوس شواہدات مرتب کرکے پیش کرنا ہے۔ یہ وہ تشدد ہےجو موبائل فون اور انٹرنیٹ جیسی اطلاعاتی اور ابلاغی ٹیکنالوجی کےذریعےکیا جارہا ہے۔

آپ کی بیان کردہ کہانیوں کو خواتین پر آن لائن تشدد کےخلاف تحریک چلانےوالے، اس مسئلےکے سنگینی کو اُجاگر کرنے، تسلیم کروانے اور؛ مقامی، قومی اور عالمی سطح پر ٹیکنالوجی سےمربوط تشدد کی اس قسم کی روک تھام کےاقدامات کی کوششوں میں استعمال کریں گے۔

تحریک چلانےوالےاُن اقدامات کےبارےمیں بھی آگاہ کریں گےجو انہوں نےخواتین اور بچیوں کی استعداد سازی اور اُن صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کی ہیں، جنہیں بروئےکار لاتے ہوئے آن لائن تشدد کا سامنا ہونےکی صورت میں یہ خود ہی اُن کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ نیز، ان کہانیوں سےحقوقِ نسواں اور انٹرنیٹ رائٹس کےتحفظ کی پرجوش پیروی کرنےوالوں کو عورتو ں کےخلاف تشدد کی اس قسم کو سمجھنےاور اس کی روک تھام کی مثبت کوششوں میں مدد بھی ملےگی۔

یہ نقشہ تنظیم برائےترقی پسند ابلاغ ( ایسوسی ایشن فار پروگریسیو کمیونیکیشنز) کا اقدام ہے، جس کی تیاری میں مندرجہ ذیل تنظیمیں شامل رہی ہیں:

ون ورلڈ پلیٹ فارم فار ساؤتھ ایسٹ یورپ، البانیا، بوسنیا ہرزیگوینا، کروشیا، مونٹینگرو، سربیا
ایسوسی ایشن سول ٹیلر پرمیننٹ دی لا مجیر، ارجنٹینا
کولنوڈو، کولمبیا
رے دی ملہر، برازیل
ٹیک بیک دی ٹیک! لبنان، لبنان
بائٹس فار آل، پاکستان
وی ڈی پرو، فلپائن

وومنز لیگل بیورو (ڈبلیو ایل اے) فلپائن
وومن آف یوگنڈا نیٹ ورک، یوگنڈا

یونین کونگولائز دیس فیمس ڈیس میڈیاز، ڈی آر سی
سی جیونسےسوائت، ڈی آر سی
ای۔ زیڈ۔ یو ۔آر ڈویلپمنٹ، کانگو

 

انگریزی سے اردو ترجمہ: مختار آزاد

Translated from English to Urdu by: Mukhtar Azad

mukhtarazad@yahoo.com